Showing posts with label ARTICLES. Show all posts
Showing posts with label ARTICLES. Show all posts

Sunday, 5 July 2015

سانس کے ذریعے معدے کے کینسر کی تشخیص کرنے والا آلہ تیار

سانس کے ذریعے معدے کے کینسر کی تشخیص کرنے والا آلہ تیار





لندن: ماہرین نے سانس کے ذریعے معدے کے کینسر کی تشخیص کرنے والا ایسا جدید آلہ تیار کیا ہے جو معدے کے کینسر کی 90 فیصد درست تشخیص کرسکتا ہے۔
برطانوی ماہرین کی جانب سے تیار کیا جانے والا آلہ پیٹ میں کینسرزدہ رسولیوں کی خاص بو کو بھانپتے ہوئے مرض کا پتا چلاتا ہے اوریہ سرطانی اورغیرسرطانی رسولیوں کے درمیان واضح فرق بھی کرسکتا ہے۔ ماہرین نے تجرباتی طورپراسے 200 مریضوں پر آزمایا جن میں سانس کے ذریعے معدے کے کینسر کی تشخیص میں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے روایتی طریقوں سے کینسر کی تشخیص کے لیے کیے جانے والے عمل میں کم ازکم 6 گھنٹے درکار ہوتے ہیں لیکن اس آلے سے معدے اوراس کی نالی میں پائے جانے والے کینسرکو بہت درستگی سے ناپا جاسکتا ہے اور یہ عمل صرف چند منٹوں میں مکمل ہوجاتا ہے۔اس آلے کے بعد مریض کواینڈواسکوپی کی ضرورت نہیں رہتی اور اس طرح مریض مزید رقم صرف کرنے اور تکلیف دہ اینڈوسکوپی سے بچ جاتا ہے۔
ماہرین کےمطابق پیٹ اور معدے کے کینسر کا عموماً اس وقت پتا چلتا ہے جب بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور پوری دنیا میں کینسر سے اموات کی 15 فیصد معدے کے کینسر سے ہی ہوتی ہے۔ ماہرین نے اس ایجاد کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قبل معدے اور آنتوں کے سرطان کے ٹیسٹ تکلیف دہ، وقت طلب اور پیچیدہ تھے لیکن اس ایجاد کےبعد اب یہ عمل آسان ہوجائے گا۔

گوگل نے مریضوں کی صحت کی آگاہی فراہم کرنے والا جدید بینڈ تیار کرلیا

گوگل نے مریضوں کی صحت کی آگاہی فراہم کرنے والا جدید بینڈ تیار کرلیا





سان فرانسسكو: گوگل لیبارٹریزنے حال ہی میں کلائی پر پہننے والے ایسے بینڈ متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے 24 گھنٹے مریض میں صحت کی اہم علامات پر نظر رکھی جاسکے گی اور اس کا ڈیٹا فوری طور پر ڈاکٹروں تک پہنچایا جاسکے گا۔
گوگل کی جانب سے متعارف کرانے والا یہ گھڑی نما آلہ نبض، دل کی دھڑکن، جلد کا درجہ حرارت اورسورج کی روشنی اور شور جیسے بیرونی عوامل بھی نوٹ کرسکتا ہے اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ وہ ڈاکٹروں کو فراہم کرتا رہے گا تاکہ کسی ہنگامی حالت میں ڈاکٹر فوری طور پر کوئی فیصلہ کرسکیں۔
کمپنی کے مطابق اس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو تحقیق اور کلینکل ٹرائلز (طبی آزمائش) کے لیے استعمال کیا جاسکے گا، دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں مریض ایسے ہیں جنہیں ہر لمحہ طبی نگہداشت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور گوگل کی اس ایجاد کا مقصد بھی ایسے لوگوں کی نگہداشت ہے۔
گوگل کی اس پروڈکٹ کی باقاعدہ آزمائش شروع ہوگئی ہے جب کہ اسے فروخت کرنے کے لیے گوگل کو امریکا اور یورپ کے مجاز اداروں سے اجازت درکار ہوگی۔ گوگل میں لائف سائنسسز سے وابستہ ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے بینڈ کی مدد سے مستقبل میں ہونے والے امراض کی پیش گوئی کرنا بھی ممکن ہوگا اور اس طرح کوئی بھی شخص احتیاط اختیار کرکے اپنی زندگی بہتر بناسکے گا۔

کینسر، ایڈزاورایبولا کی کرشماتی دوا تیارکرلی، شمالی کوریا کا دعوی

کینسر، ایڈزاورایبولا کی کرشماتی دوا تیارکرلی، شمالی کوریا کا دعوی




کینسر، ایڈز،اور ایبولا؛ دور حاضر کے مہلک ترین امراض ہیں۔ مؤخرالذکر دو بیماریاں لاعلاج ہیں جب کہ کینسر بھی تیسرے مرحلے میں لاعلاج ہوجاتا ہے۔
دنیا بھر کے سائنس ان مہلک امراض کا علاج ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بالآخر اب شمالی کوریا کے سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایسی کرشماتی دوا تیار کرنے میں کام یاب ہوگئے ہیں جو ان تینوں جان لیوا بیماریوں کا علاج ہے!یہ دعویٰ شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے توسط سے سامنے آیا ہے۔
شمالی کوریا کے سائنس دانوں نے کینسر، ایڈز اور ایبولا کا توڑکرنے والی دوا کرشماتی دوا تیار کرلی ہے۔ یہ دوا کیمیائی کھاد اور دیگر اجزا کے آمیزے ملی مٹی میں اُگائی گئی جن سنگ نامی جڑی بوٹی سے تیار کی گئی ہے۔ تاہم بہ طور کھاد استعمال کیے جانے والے اجزا کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق حیرت انگیز دوا کو Kumdang-2 کا نام دیا گیا ہے۔ دوا محلول کی شکل میں ہوگی اور اسے انجکشن کے ذریعے متاثرہ مریض کے جسم میں داخل کیا جاسکے گا۔
کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق سرکاری سائنس داں ڈاکٹر جون سنگ ہو نے دوا کی تیاری کے مراحل کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہا،’’ محققین نے دوا کی تیاری کے لیے نایاب ارضی عناصر ( rare earth elements) کو جن سنگ میں داخل کیا۔ اس مقصد کے لیے ان عناصر پر مشتمل کھاد مٹی میں ملائی گئی جس میں جن سنگ کاشت کی گئی تھی۔ دوا کا انجکشن ان ہی پیچیدہ مرکبات سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ دوا انسانی جسم کے دفاعی نظام کو حیران کُن قوت بخشتی ہے، جس کی وجہ سے جسم مہلک ترین امراض کے خلاف مزاحمت کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔‘‘
شمالی کوریا کی جانب سے Kumdang-2 کی ویب سائٹ بھی بنادی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر دستیاب تفصیلات کے مطابق دوا کا تجربہ افریقا میں ایڈز کے مریضوں پر کیا گیا۔ 56 فی صد مریض دوا کے کرشماتی اثرات کی بہ دولت ایڈز سے مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے جب کہ 44 فی صد کی حالت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔
شمالی کورین سائنس داں کے مطابقKumdang-2 کینسر کا بھی شافی علاج ہے، مگر اس ضمن میں انھوں نے مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی کہ آیا کینسر کے مریضوں پر اس دوا کا تجربہ کیا گیا تھا یا نہیں۔
عالمی سطح پر شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے دعوے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا۔ وجہ یہ ہے کہ ماضی میں بھی اس ملک کے آمر حکمرانوں کی جانب سے ناقابل یقین اور مضحکہ خیز دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ مثلاً یہ کہ شمالی کوریا کے آنجہانی حکمران اور موجودہ آمر کم جون اُن کے والد کم جونگ ال جادوئی طاقتوں کے مالک تھے، اسی لیے انھیں ٹوائلٹ جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ نیز یہ کہ کم جونگ ال کی پیدائش شمالی کوریا کی پہاڑی چوٹی پر ہوئی تھی، اور عین پیدائش کے وقت آسمان پر دہری قوس قزح اور ایک نیا ستارہ نمودار ہوگیا تھا۔ تاہم شمالی کوریا کے ریکارڈ کے مطابق آنجہائی حکمران نے سائبیریا میں جنم لیا تھا۔

دوران ڈرائیونگ وہ غلطیاں جو بڑے حادثات کا سبب بن سکتی ہیں

دوران ڈرائیونگ وہ غلطیاں جو بڑے حادثات کا سبب بن سکتی ہیں







 کراچی: ڈرائیونگ کے دوران ہم اکثر اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن بعض اوقات یہ غلطیاں مہنگی بھی ثابت ہو سکتی ہیں اور کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ناتجربہ کاری:
پاکستان میں کم عمر ڈرائیورز کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جن کی نا تجربہ کاری کے باعث بڑے بڑے حادثات رونما ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں پولیس اہلکار پکڑ بھی لیں تو وہ پیسے دے کر چھوٹ جاتے ہیں۔
ون ویلنگ اور کرتب دکھانا:
آج کل کے کم عمر نوجوان بڑی بڑی شاہراہوں پر تیز ٹریفک کے دوران ون ویلنگ اور کرتب کرتے دکھائی دیتے ہیں جو جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں اور ایسے حادثات اپنے اکثر اپنے ارد گرد دیکھنے کو ملتے ہیں۔
سگنل توڑنا:
پاکستان جیسے ملک میں سگنل توڑنے کو فخر کی بات سمجھا جاتا ہے اور بہت سے لوگ جلد بازی میں سگنل توڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بعض اوقات انھیں ایسا کرنا مشکل بھی پڑ جاتا ہے اور یا تو وہ ٹریفک پولیس کے ہاتھوں دھر لئے جاتے ہیں یا پھر اپنا ایکسیڈنٹ کروا بیٹھتے ہیں۔
اوور ٹیکنگ کرنا:
مغربی ممالک میں اپنی لین سے ہٹ کر ڈرائیونگ کرنے پر ڈرائیور حضرات کو بھاری بھرکم جرمانے عائد کرنے پڑتے ہیں لیکن پاکستان میں اوور ٹیکنگ کرتے وقت آگے اور پیچھے والی گاڑیوں کی پرواہ کئے بغیر صرف اپنی سہولت کو دیکھا جاتا ہے جو بعض اوقات بڑے حادثات کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔
اوور اسپیڈنگ:
اوور اسپیڈنگ بھی حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے، اسپیڈ چیکنگ پر جرمانہ نہ ہونے کے باعث جلد بازی میں گاڑی ضرورت سے زیادہ تیز چلاتے کی کوشش میں حادثات رونما ہو جاتے ہیں۔
بغیر چین کور اور ہیڈ لائٹ کے گاڑی چلانا:
موٹر سائیکل سوار اکثر چین سے آواز آنے کے بعد چین کور اتار لیتے ہیں اور جب اس پر خواتین سوار ہوتی ہیں تو ان کے دوپٹے یا برقعے چین میں پھنس جاتے ہیں جس کے باعث کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑی یا موٹر سائیکل کو ہیڈ لائٹ کے بغیر چلانا بھی کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
چلتی گاڑی سے تھوکنا:
چلتی گاڑی سے تھوکنے یا کسی چیز کے پھینکنے کے حوالے سے یورپین ممالک میں تو سخت قوانین موجود ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی ہوتا ہے لیکن پاکستان، بھارت اور بنگلا دیش جیسے ممالک میں جہاں پان اور گٹکے کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے لوگ اپنی جان اور روڈ کی صفائی کی پروا کئے بغیر چلتی گاڑی کا دروازہ کھول کر تھوک باہر پھیکنے کی کوشش کرتے ہیں جو کسی جان لیوا حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ مسافر بھٹانا:
جنوبی ایشیائی ممالک بالخصوص پاکستان، بھارت اور بنگلا دیش میں چنگ چی کو غریبوں کی سواری قرار دیا جاتا ہے لیکن چنگ چی مالکان زیادہ پیسوں کی لالچ میں ضرورت سے زیادہ مسافروں کو بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کے باعث اکثر ہمیں یہ موٹر سائیکل نما گاڑی پیچھے سے کھڑی ہوتی نظر آتی ہے جو پیچھے سے آتی گاڑیوں کے لئے بھی خطرناک ہوتی ہے اور چنگ چی میں بیٹھے مسافروں کے لئے بھی۔
دوران ڈرائیونگ گانے سننا:
بہت سے لوگ ڈرائیونگ کے دوران گانے سننے کے عادی ہیں اور میوزک کے بغیر انھیں ڈرائیونگ کا مزہ ہی نہیں آتا لیکن بعض اوقات ان کی توجہ گانے پر مرکوز ہونے کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ بھی رونما ہو سکتا ہے۔

Wednesday, 13 August 2014

ڇا ناري نازڪ آهي؟ سيتا ڊي داس





ڇا ناري نازڪ آهي؟

هن فوٽو ۾ هڪ ناري جيڪو گيس سلينڊر ۽ گھر جو سامان کڻي پهاڙ تان لهي پئي منهنجي خيال ۾ جهڙي تهڙي مرد کان بہ اهو ڪم ڪون ٿيندو جيڪو هن پهاڙي ڳوٺ جون ناريون روز ڪنديون آهن هو ڪاٺيون، اناج، گاه، گھر ٺاهيڻ جو ڪاٺ ڪاٻاڙو وغيره پنهنجي پٺن تي کڻي اينديون آهن ۽ حيرت جي ڳاله آهي تہ مرد هن کي صرف سامان کڻائيڻ ۾ مدد ڪندا آهن۔

پنهنجي جي سنڌ جي ڳوٺن جي ناري جي بہ ساڳي حالت آهي هو بہ پنهنجي مٿي تي فٽيون، ڪڻڪ، ساريون، توريو وغيره سڄو ڏينهن مٿي تي کڻي ڳڏ ڪنديون آهن ۽ شام جو 40 کان 50 ڪلو جيترو گاه 2 کان 3 ميل جي فاصلي کان کڻي گھر اينديون آهن مرد صرف ڪهاڙي کڻي آڳيان ٿي هلندو آهي۔
پوءُ بہ مرد جو خيال آهي تہ عورت نازڪ آهي۔ مان هن ڳاله تي حيران ٿي ويندي آهيان تہ ڪهڙي ڳاله ۾ عورت نازڪ آهي۔ جيڪو بہ ڪم مرد ڪري ٿو اهو سڀ ڪم عورت بہ ڪندي آهي۔ مثلاً: هارپو، مزدوري، آفيس ورڪ، ماستري، سرڪاري آفيسر، وزير اعظم، سائينسدان، فوجي، شڪار، F16 جيڪو جنگي جهاز آهي هن کي هلائيڻ وغيره وغيره ٻيو ڪهڙو ڪم آهي جنهن سان عورت ڪمزور نظر اچي ٿي؟
 سيتا ڊي داس

عورت ڌرتي جي اپسرا (حور)..... سيتا ڊي داس





عورت ڌرتي جي اپسرا (حور)

عورت ڌرتي جي سُندرتا ۽ ڌرتي کي سرڳ (جنت) بڻائيڻ واري اپسرا آهي۔ اي منهنجي ڪُک مان نڪتل منهنجا پيارا پُٽ هن اپسرا جو قدر ڪر، هن بي زبان معصوم جي عزت ڪر جيڪو ڀڳوان تنهنجي لائي هن ڌرتي تي موڪلي آهي۔ جيڪو هن ڌرتي تي تنهنجي لائي سڀ کان وڏو قيمتي تحفو آهي۔ هن کي پيار ڏي، هن جي دعا وٺ۔ هي جيڪو تو کي خوشي ڏي ٿي هن جي بدلي ۾ تو هن کي خوشي ڏي تہ تري ويندي، بچي ويندي ۽ ڀڳوان جي پيارن پٽ ۾ شامل ٿي ويندي جنهن لائي سرڳ جا دروازا هميشه لائي کليل آهن۔
 سيتا ڊي داس 



هن دور ۾ تعليم سان گڏ هُنر به ضروري آهي!....صوفي اصغر کوسو/جهڏو




هن دور ۾ تعليم سان گڏ هُنر به ضروري آهي!

دنيا جي ڪيترن ئي سُڌريل ملڪن جي تعليمي ادارن ۾ اهم ۽ بنيادي شعبن جا مضمون پڙهائڻ سان گڏ موسيقي، شاعري، ٽيلرنگ، رڌ پچاءُ ۽ ڊرائيونگ وغيره سميت ٻيا ڪيترائي فن ۽ هُنر سيکاريا وڃن ٿا، جنهن سان شاگردن کي پنهنجي پسند جي شعبي ۾ طبع آزمائيءَ جو ڀرپور موقعو ملي ٿو. شاگردن ۾ لڪل بيشمار صلاحيتون ظاهر ٿين ٿيون. جڏهن ته اسان جي تعليمي ادارن ۾ فن ۽ هُنر سيکارڻ يا انهن شعبن کي فروغ ڏيڻ ته پري جي ڳالهه، پر رڳو اسان جا اُستاد، شاگرد ۽ اعليٰ اختياريون سچائي ۽ ايمانداريءَ سان پنهنجيون لاڳاپيل تعليمي ذميواريون نڀائين ۽ تعليمي ادارن مان ڪاپي ڪلچر ۽ هڙتال ڪلچر جو خاتمو ڪن، ته به اسانجي ملڪ جي تعليمي صورتحال بهتر ٿي سگهي ٿي. شاگردن کي به ٻين ”غير ضروري“ سرگرمين کان پاسو ڪري فقط پنهنجي تعليم ۽ هُنر ڏانهن ڌيان ڏيڻ گهرجي، ته جيئن تعليم مڪمل ڪرڻ کانپوءِ بيروزگاريءَ کان بچي سگهجي. اسانجي ملڪ جي آباديءَ جو تيزي سان وڌڻ ۽ روزگار جا ذريعا مختصر ٿيڻ ڪري، ملڪ اڻکٽ معاشي بحرانن جي ور چڙهيل آهي، جنهن ڪري غربت ۽ بيروزگاريءَ ۾ اضافو ٿيندو پيو وڃي. مستقبل ۾ انهن مسئلن جا مستقل حل نظر نٿا اچن. جيڪڏهن نوجوان نسل اڃا به پنهنجي بهترين مستقبل لاءِ نه سوچيو، ته حالتون اڃا به خراب ٿي سگهن ٿيون، تنهن ڪري تعليم سان گڏ هُنر ضرور حاصل ڪرڻ گهرجي ۽ سنڌ حڪومت جي واڳ ڌڻين کي گهرجي، ته تعليمي ادارن سان گڏ فن ۽ هُنر جي سکيا جا ادارا وڌ کان وڌ کوليا وڃن، جنهن ۾ شاگرد تعليم سان گڏ هُنر به سِکي سگهن.
صوفي اصغر کوسو/جهڏو 


هيڊپارڪ، روزاني ڪاوش حيدرآباد
 

ڏاج جي رسم......گرڏنه لعل سچڏيو/ لاڙڪاڻو





ڏاج جي رسم
ڏاج هن سماج جي هڪ اهڙي رسم آهي، جنهن سبب ڪيتريون ئي نياڻيون، سندن والدين پاران ڏاج ڏيڻ جي سگهه نه هجڻ سبب شاديءَ جي اوسيئڙيءَ ۾ پنهنجا وار چاندي ڪريو ڇڏين. هڪ دوست مونکي ٻڌايو ته، هن پنهنجي زال کي ڌِيءَ لاءِ شادي وقت ڏاج ۽ سامان گهٽ ڏيڻ لاءِ چيو، ڇو ته مڙس کي مالي مجبوريون اجازت نه پيون ڏين، ته سندس زال ڪاوڙجي چيو ته، ”سانون نَڪ نون مَرُ نئين لاوڻي.....“ هڪ هندو دوست ٻڌايو ته، هن پنهنجي ڌِيءَ جو مڱڻو ڪري ڇڏيو آهي، شاديءَ لاءِ تاريخ مقرر ڪرڻ لاءِ جڏهن هن گهوٽيتن سان رابطو ڪيو، ته گهوٽ جي ماءُ چَورائي موڪليو ته، هن اها باسَ باسي آهي ته، سندس پٽ يعني گهوٽ، ساهرن جي ڏنل نئين ڪار تي ڪنوار وٺي ايندو....ضرورت ان ڳالهه جي آهي ته، ايوان جي چونڊيل نمائندن پاران اهڙو قانون آندو وڃي، جنهن سان وڌيڪ ڏاج واري ۽ ڏيکاءُ واري ان رسم جو خاتمو آڻي سگهجي ۽ ان سان گڏ اسان سڀني باشعورن جو به فرض آهي ته، اسان سادگيءَ کي وڌيڪ ترجيح ڏيون، ڇو ته اسان پاران جوڙيل ۽ وڌايل ان رسم سبب ڪيئي نياڻيون مائٽن جي گهر ۾ مٿي جا وار اُڀا ڪريو ڇڏين ٿيون.
گرڏنه لعل سچڏيو/ لاڙڪاڻو
هيڊپارڪ، روزاني ڪاوش حيدرآباد

عورت جي شادي موت وانگر آهي





عورت جي شادي موت وانگر آهي

عورت کي شادي ڪري پنهنجو گھر، مٽ مائٽ، ساهيڙيون ۽ ساٿياڻيون پنهنجا پيارا، مطلب تہ ارڙهن ويه سال جنهن ماحول ۾ گذاريائين ۽ جن شين ۽ ماڻهن سان لاڳ لاڳاپا هئيس، سي هڪ دم ڇڏڻا پون ٿا ۽ هن کي اڻ ڏٺل دنيا ڏانهن وڃڻو پوي ٿو۔ اها عورت جي زندگيءَ جي سڀ کان وڏي المناڪ ڳاله آهي۔اها هن لائي موت برابر ڳاله آهي۔ هن جي درد جو ڪاٿو ڪرڻ مشڪل آهي۔ دنيا جو اهو دستور ٿي ويو آهي جو هن کي اهو دستور درد برداشت ڪرڻ لاءِ آماده ڪري ٿو۔


تحرير: نجم عباسي چونڊ: سيتا ڊي داس

خوشحال سندھ کے غلام کسان.....سیتا ڈی داس —





خوشحال سندھ کے غلام کسان
یہ لوگ سندھ کے اصل وارث اور سندھ کی زراعت میں ریڑہ کی ہڈی کی حیسیت رکھنے کے باوجود جاگیرداروں کی غلامی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جن کے بنیادی حقوق پر آج تک کسی سیاسی پارٹی نے دھیان نہیں دیا جس کی وجہ سے اِن کی زندگی بہت ہی مشکل سے کٹتی ہے۔
ہماری درخواست ہے اُن لوگوں سے جو سندھ کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں پلیز، آگے آؤ اور اِن کے بنیادی حقوق کے لئے آواز اُٹھاکر اپنا اپنا فرض ادا کرو۔
سیتا ڈی داس —


بنيادي خرابي جاگيرداراڻي نظام جي آهي....تحرير: پنهل ساريو




بنيادي خرابي جاگيرداراڻي نظام جي آهي
سنڌ اندر هارين جي حقن لاءِ هلندڙ جدوجهد ڏيڊ صدي جي تاريخ تي ٻڌل آهي. ان جي باوجود اڄ به سنڌ جو هاري ۽ هارياڻيون بنيادي انساني حقن کان محروم آهن. ڪيترائي بي زمين هاري آهن جن وٽ پنهنجي زمين ناهي، نه گهر آهي، جڏهن ته بي پناھ مهانگائي، بک، بدحالي، بي روزگاري جو سڀ کان وڏو ڪارڻ جاگيرداري سماج آهي. تعليم جي تباهي جو سبب پڻ اسان جو وڏيرو ۽ ڀوتار آهي جنهن جي ڪري سنڌ جو نوجوان ترقي بجاءِ تنزلي جي پاتال ۾ اڇليو ويو آهي، جنهن ڪري طبقاتي سماج ڏينهون ڏينهن طاقتور شڪل ۾ ڦرلٽ ۽ استحصال جو ڪارڻ بڻجندو پيو وڃي ۽ سندن مقدر غريبي بڻائي وئي آهي.
هتي سوال ماڻهن جي وطن ڪارڊ ۽ وغيره ڏيڻ جو ناهي بنيادي سوال اهو آهي ته ماڻهن کي ملڪيت جي حق کان محروم لکي انهن جا بنيادي انساني حق صلب ڪيا ويا آهن. هارياڻين ۽ هارين کي زمينون ڏيڻ به بهتر عمل آهي پر بنيادي جيڪا خرابي آهي سا ته آهي جاگيرداراڻي نظام ۾ جيڪو صدين کان آزاد ڄاول انسانن جي زندگين کي غلام بڻائي ويٺو آهي. جتي انسان کي انسان سمجهڻ لاءِ طاقتور ۽ قابض طبقا تيار ئي ناهن. عورت کي عزت ۽ وقار کان محروم رکيو ويو آهي. انهن جا سياسي معاشي ۽ ثقافتي حق به محفوط ڪونهن. اهڙي صورتحال ۾ جاگيرداري جي موجوگي دراصل انساني غلامي جو ڪارڻ بڻجي سامهون اچي ٿي. انهيءَ بدترين غلامي کي سنڌ جو ماڻهو اڄوڪي جديد سائنس ۽ ٽيڪنالوجي واري دور ۾ به ڀوڳي رهيو آهي.
دنيا اندر جاگيرداريون پنهنجو موت پاڻ مري ويون. فرينچ انقلاب هندستان جي آزادي تائين توڙي ايراني انقلاب کاپوءِ جاگيرداريون ختم ڪيون ويون. ڪليسائن جي وسيح ملڪيت پڻ نه رهي جنهن سان ترقي ڪندڙ ملڪن ۾ رياستي معاملن کان مذهب کي الڳ ڪيو ويو. پر پاڪستان ۽ اسرائيل ٻه اهڙا ملڪ دنيا جي نقشي تي نروار ٿيا جن مذهب کي رياست تي حاوي رکيو ۽ پاڪستان کي اسلام جو قلعو قرار ڏيندڙ هر حڪمران پاڻ کي اسلام جو محافظ قرار ڏنو. نتيجي ۾ ملائتن پردان چڙهي ۽ فرقيوارين تشدد جو نيب بڻجي وئي.جرنل ضيا جي دور ۾ سپريم ڪورٽ جي ٽي رڪني شرعي بينج فيصلو ڏنو ته زرعي جائيداد جي حد مقرر ڪرڻ، شرعي طور غير اسلامي آهي. جڏهن ته زمين جي ملڪيت کان محروم ماڻهن جو هي بنيادي مسئلو آهي. پر هن فيصلي سان جاگيردار ۽ وڏن زميدارين کي تحفظ فراهم ڪيو ويو. ان کان پوءِ دنيا ڏٺو ته 30 سالن تائين زمين جي ملڪيتن جي معاملي يا زرعي سڌارن جي حوالي سان ڪنهن به چونڊيل يا اڻ چونڊيل حڪومت اهڙو خاص قدم نه کنيو. ان کانپوءِ محترمه بينظير ڀٽو جي شهادت بعد 2008ع سنڌ حڪومت بي بي جي واعدي کي پورو ڪرڻ لاءِ انڊ لينڊ گرانڊ پاليسي 1989 تحت 14 نومبر 2008 تي قانون پاس ڪري اسٽيٽ لينڊ جي ٻه لک ايڪڙ زمين غريب ۽ مستحق بي زمين هاراڻين ۽ هارين ۾ ورهائڻ جو اعلان ڪيو. ايوب خان جي دور ۾ فرد کي پنج سئو ايڪڙ پوکي لائق ۽ هڪ هزار ايڪڙ ناقابل ڪاشت زمين رکڻ جو حق ڏنو ويو. 1972 ۾ ذوالفقار علي ڀٽو زرعي سڌارن تحت 150 ايڪڙ حد مقرر ڪئي ۽ غير آبپاشي زمين جي حد 300 ايڪڙ رکي وئي. 1977 ۾ ڀٽو جي پ پ حڪومت ٻيو لينڊرفامز قانون پاس ڪري زمين جي حد 100 ايڪڙ آبپاشي ۽ 1200 ايڪڙ باراني مقرر ڪئي.
اها خاندانن بجاءِ فرد جي حوالي سان ڏني وئي. 1977 ۾ مارشلا لڳائي ۽ سهارو ڏئي جاگيرداري کي نه فقط جيئن جو تئين رهڻ ڏنو ويو پر پوءِ مجلس شورا ضلعي حڪومتون يا قومي صوبائي اسمبلين ۽ سينٽ ۾ سندن مستقل جڳهھ جوڙي انهن کي پاور جي طاقت سان هٿياربند ڪيو ويو. اڄ به 60 سال انهن راڄ ڪيو. اڳ سڀني سياسي پارٽين جي منشور ۾ زرعي سڌارن کي اهميت ڏني ويندي هئي پر هاڻي ڪونهي. 2007 ۾ جناب عابد حسن منٽو جيڪي قانون دان پڻ آهن زرعي سڌارن بابت سپريم ڪورٽ جي فيصلي کي چيلينج ڪيو ۽ 9 ججن تي ٻڌل لارج بئنچ جوڙي وئي. سپريم ڪورٽ ۾ عمران خان جي پي ٽي آءِ جا اڳواڻ جهانگير تين ۽ شاھ محمود قريشي ان ڪيس ۾ اسلامي تعلمات تحت آيل فيصلي جا حامي آهن جڏهن ته پنجاب حڪومت جنهن جو وڏو وزير جنرل ضياءَ جي سياسي پوک جي پيداوار آهي ان سنڌ حڪومت جيڪا پ پ جي آهي ٻنهي جو موقف عمران خان جي چوڌرين کان مختلف ناهي حيرت ان ڳالھه جي آهي ته ڀٽو صاحب ۽ بي بي هميشه هارين جي حقن لاءِ ڳالهايو ۽ قانون پاس ڪرايا پر قائم علي شاھ زرعي سڌارن کي غير اسلامي تصور ڪري ٿو. ڪنهن ڏاهي جو چوڻ آهي ته جيڪي قومون غيرت ۽ حقن لاءِ تيار هونديون آهن سي ئي زندھ رهي سگهنديون آهن. هٿرادو رياستون مليا ميٽ ٿي سگهن ٿيون سرحدي لڪيرون به تبديل ٿي سگهن ٿيون پر با عزت ۽ باوقار قومون زندھ رهي نئون سماج اڏي سگهن ٿيون.
تحرير: پنهل ساريو
روزاني عوامي آواز حيدرآباد



دوسروں کا غصہ بیوی پر اُتارنا




دوسروں کا غصہ بیوی پر اُتارنا
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ غصہ کسی اور بات پر ہوتا ہے مگر اسے بیوی پر اتارا جاتا ہے۔ آپ ایسی غلطی کبھی نہ کریں ۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ غصہ تو باہر کسی شخص پر آیا مگر اس کی بجائے آپ نے آکر بیوی کو پیٹنا شروع کردیا۔ یہ تو نہایت احمقانہ بات ہے اور اس کا ارتکاب بھی احمق اور بے وقوف لوگ ہی کرتے ہیں۔ جب باہر سے گھر آئیں تو باہر کی دنیا کو باہر ہی چھوڑ آئیں ، باہر کے کاموں کو اپنے دماغ میں بھی لے کرنہ آئیں ، باہر کسی سے اونچ نیچ ہوئی، کوئی مصیبت یا پریشانی کا مسئلہ پیدا ہوا تو اسے باہر ہی چھوڑ آئیں اور گھر کی دنیا میں ان باتوں کو یاد ہی نہ کیا کریں ۔ اس طرح آپ میں اتنی طاقت اور برداشت پیدا ہو جائے گی کہ آپ باہر کے غصے کو گھر والو ں پر نہیں اتاریں گے۔
آ پ سوچیے کہ سارا دن باہر کے ججھٹ میں رہنے کے بعد شام کو گھر واپس آئیں اور ادھر آپ کی بیوی گھر کو صاف ستھرا کر کے ، کھانا بنا ئے اور بنے سنورے انداز میں آپ کا انتظار کر رہی ہو، پھولوں کی طرح چہچہاتے بچے ابو کے انتظار میں اداس بیٹھے ہوں اور آپ کے آنے پر سب میں خوشی کی لہر دوڑ جائے مگر آ پ گھر میں داخل ہوتے ہی گالیاں بکنے لگیں۔ چیزیں اُٹھا اٹھا کر پھینکنا شروع کر دیں اور جنت بھرے گھر کو آناً فاناً جہنم کا گڑھا بنا دیں تو کیا فائدہ؟ کیا اس سے آپ کا نقصان پورا ہوجائے گا؟
نہیں ، اس سے تو آپ کی پریشانی اور بڑھے گی ۔ پہلے آپ اکیلے پریشان تھے ، اب بیوی بچے بھی پریشان ہوں گے۔ سمجھدار شوہر وہ ہوتا ہے جو اس موقع پر گھر کے سکون سے فائدہ اٹھاتا ہے اور گھر کی خوشی میں باہر ے غصے کو بھلا دیتا ہے۔

چین کے حاکم کی کہانی





چین کے کسی حاکم

کہتے ہیں کہ ایک بار چین کے کسی حاکم نے ایک بڑی گزرگاہ کے بیچوں بیچ ایک چٹانی پتھر ایسے رکھوا دیا کہ گزرگاہ بند ہو کر رہ گئی۔ اپنے ایک پہریدار کو نزدیک ہی ایک درخت کے پیچھےچھپا کر بٹھا دیا تاکہ وہ آتے جاتے لوگوں کے ردِ عمل سُنے اور اُسے آگاہ
کرے۔

اتفاق سے جس پہلے شخص کا وہاں سے گزر ہوا وہ شہر کا مشہور تاجر تھا جس نے بہت ہی نفرت اور حقارت سے سڑک کے بیچوں بیچ رکھی اس چٹان کو دیکھا، یہ جانے بغیر کہ
یہ چٹان تو حاکم وقت نے ہی رکھوائی تھی اُس نے ہر اُس شخص کو بے نقط اور بے حساب باتیں سنائیں جو اس حرکت کا ذمہ دار ہو سکتا تھا۔ چٹان کے ارد گرد ایک دو چکر لگائے اور چیختے ڈھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی جا کر اعلیٰ حکام سے اس حرکت کی شکایت کرے گا اور جو کوئی بھی اس حرکت کا ذمہ دار ہوگا اُسے سزا دلوائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھے گا۔
اس کے بعد وہاں سے تعمیراتی کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کا گزر ہوا ۔ اُس کا ردِ عمل بھی اُس سے پہلے گزرنے والے تاجر سے مختلف تو نہیں تھا مگر اُس کی باتوں میں ویسی شدت اور گھن گرج نہیں تھی جیسی پہلے والا تاجر دکھا کر گیا تھا۔ آخر ان دونوں کی حیثیت اور مرتبے میں نمایاں فرق بھی توتھا!
اس کے بعد وہاں سے تین ایسے دوستوں کا گزر ہوا جو ابھی تک زندگی میں اپنی ذاتی پہچان نہیں بنا پائے تھے اور کام کاج کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے چٹان کے پاس رک کر سڑک کے بیچوں بیچ ایسی حرکت کرنے والے کو جاہل، بیہودہ اور گھٹیا انسان سے تشبیہ دی، قہقہے لگاتے اور ہنستے ہوئے اپنے گھروں کو چل دیئے۔
اس طرح مختلف لوگ گزرتے رہے اور پتھر کو ، حکمرانوں کو برا بھلا کہتے رہے
اس چٹان کو سڑک پر رکھے دو دن گزر گئے تھے کہ وہاں سے ایک مفلوک الحال اور غریب کسان کا گزر ہوا۔ کوئی شکوہ کیئے بغیر جو بات اُس کے دل میں آئی وہ وہاں سے گزرنے ولوں کی تکلیف کا احساس تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ پتھر وہاں سے ہٹا دیا جائے۔ اُس نے وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو دوسرے لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کیا اور انہیں جمع ہو کر وہاں سے پتھر ہٹوانے کیلئے مدد کی درخواست کی۔ اور بہت سے لوگوں نے مل کر زور لگاکرچٹان نما پتھر وہاں سے ہٹا دیا۔
اور جیسے ہی یہ چٹان وہاں سے ہٹی تو نیچے سے ایک چھوٹا سا گڑھا کھود کر اُس میں رکھی ہوئی ایک صندوقچی نظر آئی جسے کسان نے کھول کر دیکھا تو اُس میں سونے کا ایک ٹکڑا اور خط رکھا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ: حاکم وقت کی طرف سے اس چٹان کو سڑک کے درمیان سے ہٹانے والے شخص کے نام۔ جس کی مثبت اور عملی سوچ نے مسائل پر شکایت کرنے کی بجائے اُس کا حل نکالنا زیادہ بہتر جانا۔

کیا خیال ہے آپ بھی اپنے گردو نواح میں نظر دوڑا کر دیکھ لیں۔ کتنے ایسے مسائل ہیں جن کے حل ہم آسانی سے پیدا کر سکتے ہیں!
تو پھر کیا خیال ہے شکوہ و شکایتیں بند، اور شروع کریں ایسے مسائل کو حل کرنا؟

جنهن قوم ۾ عورت کي غلام ۽ اٻوجه رکيو وڃي ٿو هن قوم جي اچڻ واري نسل اٻوجه، اپاهج ۽ جاهل پيدا ٿيندي۔۔۔


جنهن قوم ۾ عورت کي غلام ۽ اٻوجه رکيو وڃي ٿو هن قوم جي اچڻ واري نسل اٻوجه، اپاهج ۽ جاهل پيدا ٿيندي۔۔۔